بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: (نماز میں) کپڑوں میں گرہ لگانا اور باندھنا کیسا ہے اور جو شخص شرمگاہ کے کھل جانے کے خوف سے کپڑے کو جسم سے لپیٹ لے تو کیا حکم ہے؟
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں («صفة الصلوة») باب: (نماز میں) کپڑوں میں گرہ لگانا اور باندھنا کیسا ہے اور جو شخص شرمگاہ کے کھل جانے کے خوف سے کپڑے کو جسم سے لپیٹ لے تو کیا حکم ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 814 صحیح بخاری
مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، سُفْيَانُ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:" كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ عَاقِدُوا أُزْرِهِمْ مِنَ الصِّغَرِ عَلَى رِقَابِهِمْ، فَقِيلَ لِلنِّسَاءِ: لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوسًا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں سفیان نے ابوحازم سلمہ بن دینار کے واسطے سے خبر دی، انہوں نے سہل بن سعد سے، انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تہبند چھوٹے ہونے کی وجہ سے انہیں گردنوں سے باندھ کر نماز پڑھتے تھے اور عورتوں سے کہہ دیا گیا تھا کہ جب تک مرد اچھی طرح بیٹھ نہ جائیں تم اپنے سروں کو (سجدہ سے) نہ اٹھاؤ۔ [صحيح البخاري/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 814]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة