يَحْيَي بْنُ قَزَعَةَ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْد ، الزُّهْرِيِّ ، هِنْدَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، أُمِّ سَلْمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْد، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدَ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلْمَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ إِذَا قَامَ النِّسَاءُ حِينَ يَقْضِى تَسْلِيمَهُ وَهُوَ يَمْكُثُ فِي مَقَامِهِ يَسِيرًا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ، قَالَتْ: نُرَى وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ لِكَيْ يَنْصَرِفَ النِّسَاءُ قَبْلَ أَنْ يُدْرِكَهُنَّ الرِّجَالُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے زہری سے بیان کیا، ان سے ہند بنت حارث نے بیان کیا، ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سلام پھیرتے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سلام پھیرتے ہی عورتیں جانے کے لیے اٹھ جاتی تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھوڑی دیر ٹھہرے رہتے کھڑے نہ ہوتے۔ زہری نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں، آگے اللہ جانے، یہ اس لیے تھا تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے نکل جائیں۔ [صحيح البخاري/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 875]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة