عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، أَبِي ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةُ ، أَبِي مَعْمَرٍ ، خَبَّابًا
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قَالَ:" سَأَلْنَا خَبَّابًا أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، قَالَ: نَعَمْ، قُلْنَا بِأَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ، قَالَ: بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا کہ کہا ہم سے میرے والد نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے سلیمان بن مہران اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمارہ بن عمیر نے بیان کیا ابومعمر عبداللہ بن مخبرہ سے، کہا کہ ہم نے خباب بن ارت سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر اور عصر میں قرآت کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے بتلایا کہ ہاں، ہم نے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کس طرح معلوم ہوتا تھا؟ فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی داڑھی مبارک کے ہلنے سے۔ [صحيح البخاري/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 760]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة