وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، أَنَّ هِرَقْلَ دَعَا تَرْجُمَانَهُ، ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَهُ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ وَيَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْآيَةَ.
ترجمہ: مولانا داود راز
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے ابوسفیان بن حرب نے خبر دی کہ ہرقل نے اپنے ترجمان کو بلایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خط منگوایا اور اسے پڑھا۔ شروع اللہ کے نام سے جو بہت نہایت رحم کرنے والا بڑا مہربان ہے۔ اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے ہرقل کی جانب۔ پھر یہ آیت لکھی تھی «يا أهل الكتاب تعالوا إلى كلمة سواء بيننا وبينكم» کہ ”اے کتاب والو! اس بات پر آ جاؤ جو ہم میں تم میں یکساں مانی جاتی ہے“ آخر آیت تک۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7541]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة