بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 7485 — باب: جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ اللہ کا کلام کرنا۔
کتب صحیح بخاری کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں باب: جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ اللہ کا کلام کرنا۔ حدیث 7485

Q7485 حوالہ جات (References)

وَقَالَ مَعْمَرٌ وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآنَ أَيْ يُلْقَى عَلَيْكَ وَتَلَقَّاهُ أَنْتَ أَيْ تَأْخُذُهُ عَنْهُمْ وَمِثْلُهُ فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ.
‏‏‏‏ اور اللہ کا فرشتوں کو پکارنا۔ اور معمر بن مثنیٰ نے کہا آیت «وإنك لتلقى القرآن‏» (سورۃ النمل) کا مفہوم ہے جو فرمایا کہ اے پیغمبر! تجھ کو قرآن اللہ کی طرف سے ملتا ہے جو حکمت والا خبردار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن تجھ پر ڈالا جاتا ہے اور تو اس کو لیتا ہے جیسے (سورۃ البقرہ میں) فرمایا «فتلقى آدم من ربه كلمات‏» کہ آدم نے اپنے پروردگار سے چند کلمہ حاصل کئے رب کا استقبال کر کے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: Q7485]
حدیث نمبر: 7485 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْحَاقُ ، عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا نَادَى جِبْرِيلَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّ فُلَانًا، فَأَحِبَّهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، ثُمَّ يُنَادِي جِبْرِيلُ فِي السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّ فُلَانًا، فَأَحِبُّوهُ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، وَيُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي أَهْلِ الْأَرْضِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کے ‘، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو آواز دیتا ہے کہ اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ جبرائیل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر وہ آسمان میں آواز دیتے ہیں کہ اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ اہل آسمان بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور اس طرح روئے زمین میں بھی اسے مقبولیت حاصل ہو جاتی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7485]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (7484) باب پر واپس اگلی حدیث (7486) →