ابْنُ سَلَامٍ ، هُشَيْمٌ ، حُصَيْنٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ حِينَ نَام عَنِ الصَّلَاةِ، قَال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ، وَرَدَّهَا حِينَ شَاءَ، فَقَضَوْا حَوَائِجَهُمْ وَتَوَضَّئُوا إِلَى أَنْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، وَابْيَضَّتْ فَقَامَ فَصَلَّى".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشیم نے خبر دی، انہیں حصین نے، انہیں عبداللہ بن ابی قتادہ نے، انہیں ان کے والد نے کہ جب سب لوگ سوئے اور نماز قضاء ہو گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمہاری روحوں کو جب چاہتا ہے روک دیتا ہے اور جب چاہتا ہے چھوڑ دیتا ہے، پس تم اپنی ضرورتوں سے فارغ ہو کر وضو کرو، آخر جب سورج پوری طرح طلوع ہو گیا اور خوب دن نکل آیا تو آپ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّوْحِيدِ/حدیث: 7471]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة