بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 7252 — باب: ایک سچے شخص کی خبر پر اذان، نماز، روزے فرائض سارے احکام میں عمل ہونا۔
کتب صحیح بخاری کتاب: خبر واحد کے بیان میں باب: ایک سچے شخص کی خبر پر اذان، نماز، روزے فرائض سارے احکام میں عمل ہونا۔ حدیث 7252

Q7246 حوالہ جات (References)

وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: {فَلَوْلاَ نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ}. وَيُسَمَّى الرَّجُلُ طَائِفَةً لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا}. فَلَوِ اقْتَتَلَ رَجُلاَنِ دَخَلَ فِي مَعْنَى الآيَةِ. وَقَوْلُهُ تَعَالَى: {إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا}. وَكَيْفَ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَرَاءَهُ وَاحِدًا بَعْدَ وَاحِدٍ، فَإِنْ سَهَا أَحَدٌ مِنْهُمْ رُدَّ إِلَى السُّنَّةِ.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ التوبہ میں) فرمایا «فلولا نفر من كل فرقة منهم طائفة ليتفقهوا في الدين ولينذروا قومهم إذا رجعوا إليهم لعلهم يحذرون‏» ایسا کیوں نہیں کرتے ہر فرقہ میں سے کچھ لوگ نکلیں تاکہ وہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور لوٹ کر اپنی قوم کے لوگوں کو ڈرائیں اس لیے کہ وہ تباہی سے بچے رہیں۔ اور ایک شخص کو بھی طائفہ کہہ سکتے ہیں جیسے (سورۃ الحجرات کی) اس آیت میں فرمایا «وإن طائفتان من المؤمنين اقتتلوا‏» اگر مسلمانوں کے دو طائفے لڑ پڑیں اور اس میں وہ دو مسلمان بھی داخل ہیں جو آپس میں لڑ پڑیں (تو ہر ایک مسلمان ایک طائفہ ہوا) اور (اسی سورت میں) اللہ تعالیٰ نے فرمایا «إن جاءكم فاسق بنبإ فتبينوا‏» مسلمانو! (جلدی مت کیا کرو) اگر تمہارے پاس بدکار شخص کچھ خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔ اور اگر خبر واحد مقبول نہ ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک شخص کو حاکم بنا کر اور اس کے بعد دوسرے شخص کو کیوں بھیجتے اور یہ کیوں فرماتے کہ اگر پہلا حاکم کچھ بھول جائے تو دوسرا حاکم اس کو سنت کے طریق پر لگا دے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ/حدیث: Q7246]
حدیث نمبر: 7252 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى ، وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ"صَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ، أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يُوَجَّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا سورة البقرة آية 144، فَوُجِّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ وَصَلَّى مَعَهُ رَجُلٌ الْعَصْرَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ، قَدْ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَانْحَرَفُوا وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ بلخی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع بن جراح نے بیان کیا، ان سے اسرائیل بن یونس نے، ان سے ابواسحاق سبیعی نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے لیکن آپ کی آرزو تھی کہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے (سورۃ البقرہ میں) یہ آیت نازل کی «قد نرى تقلب وجهك في السماء فلنولينك قبلة ترضاها‏» ہم آپ کے منہ کے باربار آسمان کی طرف اٹھنے کو دیکھتے ہیں، عنقریب ہم آپ کو منہ کو اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس سے آپ خوش ہوں گے۔ چنانچہ رخ کعبہ کی طرف کر دیا گیا۔ ایک صاحب نے عصر کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر وہ مدینہ سے نکل کر انصار کی ایک جماعت تک پہنچے اور کہا کہ وہ گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہو گیا ہے چنانچہ سب لوگ کعبہ رخ ہو گئے حالانکہ وہ عصر کی نماز کے رکوع میں تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب أَخْبَارِ الْآحَادِ/حدیث: 7252]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (7251) باب پر واپس اگلی حدیث (7253) →