بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 7216 — باب: اس کا گناہ جس نے بیت توڑی۔
کتب صحیح بخاری کتاب: حکومت اور قضا کے بیان میں باب: اس کا گناہ جس نے بیت توڑی۔ حدیث 7216

Q7216 حوالہ جات (References)

وَقَوْلِهِ تَعَالَى: {إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّمَا يَنْكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهِ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا}.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الفتح میں) فرمان «إن الذين يبايعونك إنما يبايعون الله يد الله فوق أيديهم فمن نكث فإنما ينكث على نفسه ومن أوفى بما عاهد عليه الله فسيؤتيه أجرا عظيما‏» یقیناً جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ سے بیعت کرتے ہیں۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے۔ پس جو کوئی اس بیعت کو توڑے گا بلا شک اس کا نقصان اسے ہی پہنچے گا اور جو کوئی اس عہد کو پورا کرے جو اللہ سے اس نے کیا ہے تو اللہ اسے بڑا اجر عطا فرمائے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: Q7216]
حدیث نمبر: 7216 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو نُعَيْمٍ ، سُفْيَانُ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرًا
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعْتُ جَابِرًا، قَالَ:" جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَايِعْنِي عَلَى الْإِسْلَامِ، فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، ثُمَّ جَاءَ الْغَدَ مَحْمُومًا، فَقَالَ: أَقِلْنِي، فَأَبَى، فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ: الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طِيبُهَا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابونعیم (فضل بن دکین) نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے، انہوں نے کہا میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے ایک گنوار (نام نامعلوم) یا قیس بن ابی حازم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، کہنے لگا: یا رسول اللہ! اسلام پر مجھ سے بیعت لیجئے۔ آپ نے اس سے بیعت لے لی، پھر دوسرے دن بخار میں ہلہلاتا آیا کہنے لگا میری بیعت فسخ کر دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انکار کیا (بیعت فسخ نہیں کی) جب وہ پیٹھ موڑ کر چلتا ہوا، تو فرمایا مدینہ کیا ہے (لوہار کی بھٹی ہے) پلید اور ناپاک (میل کچیل) کو چھانٹ ڈالتا ہے اور کھرا ستھرا مال رکھ لیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَحْكَامِ/حدیث: 7216]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (7215) باب پر واپس اگلی حدیث (7217) →