أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ ، إِسْمَاعِيلُ ، أَخِي ، سُلَيْمَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيق ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ، أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ ، زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ. ح وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيق، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا فَزِعًا، يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ، وَحَلَّقَ بِإِصْبَعَيْهِ الْإِبْهَامِ وَالَّتِي تَلِيهَا، قَالَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟، قَالَ: نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخُبْثُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے محمد بن ابی عتیق نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے، ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہم نے اور ان سے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس گھبرائے ہوئے داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے کہ تباہی ہے عربوں کے لیے اس برائی سے جو قریب آ چکی ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار سے اتنا کھل گیا ہے اور آپ نے اپنے انگوٹھے اور اس کی قریب والی انگلی کو ملا کر ایک حلقہ بنایا۔ اتنا سن کر زینب بن جحش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تو کیا ہم اس کے باوجود ہلاک ہو جائیں گے کہ ہم میں نیک صالح لوگ بھی زندہ ہوں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جب برائی بہت بڑھ جائے گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7135]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة