عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، أَبِي ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٌ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ، قَالَ: جَلَسَ عَبْدُ اللَّهِ، وَأَبُو مُوسَى فَتَحَدَّثَا، فَقَالَ أَبُو مُوسَى، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَيَّامًا يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ وَيَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ، وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ وَالْهَرْجُ، الْقَتْلُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما بیٹھے اور گفتگو کرتے رہے پھر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ”قیامت سے پہلے ایسے دن آئیں گے جن میں علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت اترے پڑے گی اور «هرج» کی کثرت ہو جائے گی اور «هرج» قتل ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7064]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة