مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ابْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيَّ ، عُرْوَةَ ، زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، أُمِّ حَبِيبَةَ ، زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ الزُّهْرِيَّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ، أَنَّهَا قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّوْمِ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ، يَقُولُ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ، وَعَقَدَ سُفْيَانُ تِسْعِينَ أَوْ مِائَةً، قِيلَ: أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟، قَالَ: نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے زہری سے سنا، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کا چہرہ سرخ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ عربوں کی تباہی اس بلا سے ہو گی جو قریب ہی آ لگی ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں سے اتنا سوراخ ہو گیا اور سفیان نے نوے یا سو کے عدد کے لیے انگلی باندھی پوچھا گیا کیا ہم اس کے باوجود ہلاک ہو جائیں گے کہ ہم میں صالحین بھی ہوں گے؟ فرمایا ہاں! جب برائی بڑھ جائے گی (تو ایسا ہی ہو گا)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفِتَنِ/حدیث: 7059]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة