مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ، فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ، ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ مَا كَانَ، فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ ابن ابی بردہ نے بیان کیا، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے مجھ کو یقین ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یوں فرمایا کہ میں نے ایک تلوار ہلائی تو وہ بیچ سے ٹوٹ گئی۔ اس کی تعبیر احد کی جنگ میں مسلمانوں کے شہید ہونے کی صورت میں سامنے آئی پھر دوبارہ میں نے اسے ہلایا تو وہ پہلے سے بھی اچھی شکل میں ہو گئی۔ اس کی تعبیر فتح اور مسلمانوں کے اتفاق و اجتماع کی صورت میں سامنے آئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّعْبِيرِ/حدیث: 7041]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة