بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 6977 — باب: ہبہ پھیر لینے یا شفعہ کا حق ساقط کرنے کے لیے حیلہ کرنا مکروہ ہے۔
کتب صحیح بخاری کتاب: شرعی حیلوں کے بیان میں باب: ہبہ پھیر لینے یا شفعہ کا حق ساقط کرنے کے لیے حیلہ کرنا مکروہ ہے۔ حدیث 6977

Q6975 حوالہ جات (References)

وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: إِنْ وَهَبَ هِبَةً أَلْفَ دِرْهَمٍ أَوْ أَكْثَرَ حَتَّى مَكَثَ عِنْدَهُ سِنِينَ وَاحْتَالَ فِي ذَلِكَ ثُمَّ رَجَعَ الْوَاهِبُ فِيهَا فَلَا زَكَاةَ عَلَى وَاحِدٍ مِنْهُمَا فَخَالَفَ الرَّسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْهِبَةِ وَأَسْقَطَ الزَّكَاةَ.
‏‏‏‏ اور بعض لوگوں نے کہا کہ اگر کسی شخص نے دوسرے کو ہزار درہم یا اس سے زیادہ ہبہ کئے اور یہ درہم موہوب کے پاس برسوں رہ چکے پھر واہب نے حیلہ کر کے ان کو لے لیا۔ ہبہ میں رجوع کر لیا۔ ان میں سے کسی پر زکوٰۃ لازم نہ ہو گی اور ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث کے خلاف کیا جو ہبہ میں وارد ہے اور باوجود سال گزرنے کے اس میں زکوٰۃ ساقط ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحِيَلِ/حدیث: Q6975]
حدیث نمبر: 6977 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سُفْيَانُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ ، أَبُو رَافِعٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ، قَالَ جَاءَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِي، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَى سَعْدٍ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ، لِلْمِسْوَرِ: أَلَا تَأْمُرُ هَذَا أَنْ يَشْتَرِيَ مِنِّي بَيْتِي الَّذِي فِي دَارِي؟، فَقَالَ: لَا أَزِيدُهُ عَلَى أَرْبَعِ مِائَةٍ إِمَّا مُقَطَّعَةٍ وَإِمَّا مُنَجَّمَةٍ، قَالَ: أُعْطِيتُ خَمْسَ مِائَةٍ نَقْدًا فَمَنَعْتُهُ، وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْجَارُ أَحَقُّ بِصَقَبِهِ، مَا بِعْتُكَهُ، أَوْ قَالَ: مَا أَعْطَيْتُكَهُ"، قُلْتُ لِسُفْيَانَ: إِنَّ مَعْمَرًا لَمْ يَقُلْ هَكَذَا، قَالَ: لَكِنَّهُ قَالَ لِي هَكَذَا، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: إِذَا أَرَادَ أَنْ يَبِيعَ الشُّفْعَةَ، فَلَهُ أَنْ يَحْتَالَ حَتَّى يُبْطِلَ الشُّفْعَةَ، فَيَهَبَ الْبَائِعُ لِلْمُشْتَرِي الدَّارَ، وَيَحُدُّهَا وَيَدْفَعُهَا إِلَيْهِ وَيُعَوِّضُهُ الْمُشْتَرِي أَلْفَ دِرْهَمٍ، فَلَا يَكُونُ لِلشَّفِيعِ فِيهَا شُفْعَةٌ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابراہیم بن میسرہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے عمرو بن شرید سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے میرے مونڈھے پر اپنا ہاتھ رکھا پھر میں ان کے ساتھ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا تو ابورافع نے اس پر کہا کہ اس کا چار سو سے زیادہ میں نہیں دے سکتا اور وہ بھی قسطوں میں دوں گا۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ مجھے تو اس کے پانچ سو نقد مل رہے تھے اور میں نے انکار کر دیا۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ پڑوسی زیادہ مستحق ہے تو میں اسے تمہیں نہ بیچتا۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا میں نے سفیان بن عیینہ سے اس پر پوچھا کہ معمر نے اس طرح نہیں بیان کیا ہے۔ سفیان نے کہا کہ لیکن مجھ سے تو ابراہیم بن میسرہ نے یہ حدیث اسی طرح نقل کی۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص چاہے کہ شفیع کو حق شفعہ نہ دے تو اسے حیلہ کرنے کی اجازت ہے اور حیلہ یہ ہے کہ جائیداد کا مالک خریدار کو وہ جائیداد ہبہ کر دے پھر خریدار یعنی موہوب لہ اس ہبہ کے معاوضہ میں مالک جائیداد کو ہزار درہم مثلاً ہبہ کر دے اس صورت میں شفیع کو شفعہ کا حق نہ رہے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحِيَلِ/حدیث: 6977]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (6976) باب پر واپس اگلی حدیث (6978) →