بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 6809 — باب: زنا کے گناہ کا بیان۔
کتب صحیح بخاری کتاب: ان کفار و مرتدوں کے احکام میں جو مسلمانوں سے لڑتے ہیں باب: زنا کے گناہ کا بیان۔ حدیث 6809

Q6808 حوالہ جات (References)

وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى وَلا يَزْنُونَ سورة الفرقان آية 68 وَلا تَقْرَبُوا الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 32
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ الفرقان میں) ارشاد فرمایا «ولا يزنون‏» اور وہ لوگ زنا نہیں کرتے اور (سورۃ بنی اسرائیل) میں فرمایا «ولا تقربوا الزنا إنه كان فاحشة وساء سبيلا‏» اور زنا کے قریب نہ جاؤ کہ وہ بےحیائی کا کام ہے اور اس کا راستہ برا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: Q6808]
حدیث نمبر: 6809 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، الْفُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَزْنِي الْعَبْدُ حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ"، قَالَ عِكْرِمَةُ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: كَيْفَ يُنْزَعُ الْإِيمَانُ مِنْهُ؟ قَالَ: هَكَذَا: وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ أَخْرَجَهَا، فَإِنْ تَابَ، عَادَ إِلَيْهِ هَكَذَا: وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو اسحاق بن یوسف نے خبر دی، کہا ہم کو فضیل بن غزوان نے خبر دی، انہیں عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بندہ جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ بندہ جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا اور بندہ جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا اور جب وہ قتل ناحق کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔ عکرمہ نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ایمان اس سے کس طرح نکال لیا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اس طرح اور اس وقت آپ ان نے اپنی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر پھر الگ کر لیا پھر اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو ایمان اس کے پاس لوٹ آتا ہے، اس طرح اور آپ نے اپنی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالا۔ [صحيح البخاري/كتاب المحاربين/حدیث: 6809]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (6808) باب پر واپس اگلی حدیث (6810) →