بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 6612 — باب: اور اس بستی پر ہم نے حرام کر دیا ہے جسے ہم نے ہلاک کر دیا کہ وہ اب دنیا میں لوٹ نہیں سکیں گے (سورۃ انبیاء)“ اور یہ کہ جو لوگ تمہاری قوم کے ایمان لا چکے ہیں ان کے سوا اور کوئی اب ایمان نہیں لائے گا (سورۃ ہود) اور یہ کہ ”وہ بدکرداروں کے سوا اور کسی کو نہیں جنیں گے۔
کتب صحیح بخاری کتاب: تقدیر کے بیان میں باب: اور اس بستی پر ہم نے حرام کر دیا ہے جسے ہم نے ہلاک کر دیا کہ وہ اب دنیا میں لوٹ نہیں سکیں گے (سورۃ انبیاء)“ اور یہ کہ جو لوگ تمہاری قوم کے ایمان لا چکے ہیں ان کے سوا اور کوئی اب ایمان نہیں لائے گا (سورۃ ہود) اور یہ کہ ”وہ بدکرداروں کے سوا اور کسی کو نہیں جنیں گے۔ حدیث 6612

Q6612 حوالہ جات (References)

وَقَالَ مَنْصُورُ بْنُ النُّعْمَانِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: وَحِرْمٌ بِالْحَبَشِيَّةِ وَجَبَ"
‏‏‏‏ اور منصور بن نعمان نے عکرمہ سے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ «حرم» حبشی زبان کا لفظ ہے اس کے معنی ضرور اور واجب کے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: Q6612]
حدیث نمبر: 6612 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ ، شَبَابَةُ ، وَرْقَاءُ ، ابْنِ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ، فَزِنَا الْعَيْنِ: النَّظَرُ، وَزِنَا اللِّسَانِ: الْمَنْطِقُ، وَالنَّفْسُ: تَمَنَّى وَتَشْتَهِي، وَالْفَرْجُ: يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ"، وَقَالَ شَبَابَةُ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ابن طاؤس نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ یہ جو «لمم» کا لفظ قرآن میں آیا ہے تو میں «لمم» کے مشابہ اس بات سے زیادہ کوئی بات نہیں جانتا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے زنا کا کوئی نہ کوئی حصہ لکھ دیا ہے جس سے اسے لامحالہ گزرنا ہے، پس آنکھ کا زنا (غیرمحرم کو) دیکھنا ہے، زبان کا زنا غیرمحرم سے گفتگو کرنا ہے، دل کا زنا خواہش اور شہوت ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق کر دیتی ہے یا اسے جھٹلا دیتی ہے۔ اور شبابہ نے بیان کیا کہ ہم سے ورقاء نے بیان کیا، ان سے ابن طاؤس نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پھر اس حدیث کو نقل کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6612]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (6611) باب پر واپس اگلی حدیث (6613) →