مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، حُذَيْفَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَقَدْ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً مَا تَرَكَ فِيهَا شَيْئًا إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ، إِلَّا ذَكَرَهُ عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ، إِنْ كُنْتُ لَأَرَى الشَّيْءَ قَدْ نَسِيتُ فَأَعْرِفُ مَا يَعْرِفُ الرَّجُلُ إِذَا غَابَ عَنْهُ فَرَآهُ فَعَرَفَهُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے موسیٰ بن مسعود نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ دیا اور قیامت تک کوئی (دینی) چیز ایسی نہیں چھوڑی جس کا بیان نہ کیا ہو، جسے یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا، جب میں ان کی کوئی چیز دیکھتا ہوں جسے میں بھول چکا ہوں تو اس طرح اسے پہچان لیتا ہوں جس طرح وہ شخص جس کی کوئی چیز گم ہو گئی ہو کہ جب وہ اسے دیکھتا ہے تو فوراً پہچان لیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْقَدَرِ/حدیث: 6604]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة