بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 6394 — باب: مشرکین کے لیے بددعا کرنا۔
کتب صحیح بخاری کتاب: دعاؤں کے بیان میں باب: مشرکین کے لیے بددعا کرنا۔ حدیث 6394

Q6392 حوالہ جات (References)

وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ، وَقَالَ: اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ سورة آل عمران آية 128.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! میری مدد کر ایسے قحط کے ذریعہ جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا اور آپ نے بددعا کی اے اللہ! ابوجہل کو پکڑ لے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز میں یہ دعا کی کہ اے للہ! فلاں، فلاں کو اپنی رحمت سے دور کر دے یہاں تک کہ قرآن کی آیت «ليس لك من الأمر شىء‏» نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: Q6392]
حدیث نمبر: 6394 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَاصِمٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً يُقَالُ لَهُمْ: الْقُرَّاءُ، فَأُصِيبُوا فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى شَيْءٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ، فَقَنَتَ شَهْرًا فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَيَقُولُ:" إِنَّ عُصَيَّةَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا، ان سے عاصم نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہم بھیجی، جس میں شریک لوگوں کو قراء (یعنی قرآن مجید کے قاری) کہا جاتا تھا۔ ان سب کو شہید کر دیا گیا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی کسی چیز کا اتنا غم ہوا ہو جتنا آپ کو ان کی شہادت کا غم ہوا تھا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں ان کے لیے بددعا کی، آپ کہتے کہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدَّعَوَاتِ/حدیث: 6394]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (6393) باب پر واپس اگلی حدیث (6395) →