بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 6274 — باب: اپنے ساتھیوں کے سامنے ٹیک لگا کر بیٹھنا۔
کتب صحیح بخاری کتاب: اجازت لینے کے بیان میں باب: اپنے ساتھیوں کے سامنے ٹیک لگا کر بیٹھنا۔ حدیث 6274

Q6273 حوالہ جات (References)

قَالَ خَبَّابٌ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً، قُلْتُ: أَلَا تَدْعُو اللَّهَ، فَقَعَدَ.
خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ایک چادر پر ٹیک لگائے ہوئے تھے میں نے عرض کیا: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کرتے! (یہ سن کر) آپ سیدھے ہو بیٹھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ/حدیث: Q6273]
حدیث نمبر: 6274 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُسَدَّدٌ ، بِشْرٌ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، مِثْلَهُ، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ، فَقَالَ:" أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ"، فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا: لَيْتَهُ سَكَتَ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے اسی طرح مثال بیان کیا، (اور یہ بھی بیان کیا کہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا ہاں اور جھوٹی بات بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے اتنی مرتبہ باربار دہراتے رہے کہ ہم نے کہا، کاش آپ خاموش ہو جاتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ/حدیث: 6274]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (6273) باب پر واپس اگلی حدیث (6275) →