بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 6251 — باب: جواب میں صرف علیک السلام کہنا۔
کتب صحیح بخاری کتاب: اجازت لینے کے بیان میں باب: جواب میں صرف علیک السلام کہنا۔ حدیث 6251

Q6251 حوالہ جات (References)

وَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَدَّ الْمَلَائِكَةُ عَلَى آدَمَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ.
اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا کہ وعلیہ السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ اور ان پر بھی سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں (اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا) فرشتوں نے آدم علیہ السلام کو جواب دیا «السلام عليك ورحمة الله‏"‏‏» سلام ہو آپ پر اور اللہ کی رحمت۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ/حدیث: Q6251]
حدیث نمبر: 6251 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ، فَقَالَ:" وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، فَارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، فَقَالَ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الَّتِي بَعْدَهَا: عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا"، وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ فِي الْأَخِيرِ: حَتَّى تَسْتَوِيَ قَائِمًا،
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے اسحٰق بن منصور نے بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن نمیر نے خبر دی، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید مقبری نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے نماز پڑھی اور پھر حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وعلیک السلام واپس جا اور دوبارہ نماز پڑھ، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گئے اور نماز پڑھی۔ پھر (نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کے پاس آئے اور سلام کیا آپ نے فرمایا وعلیک السلام۔ واپس جاؤ پھر نماز پڑھو۔ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ وہ واپس گیا اور اس نے پھر نماز پڑھی۔ پھر واپس آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب میں فرمایا وعلیکم السلام۔ واپس جاؤ اور دوبارہ نماز پڑھو۔ کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ ان صاحب نے دوسری مرتبہ، یا اس کے بعد، عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے نماز پڑھنی سکھا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے کھڑے ہوا کرو تو پہلے پوری طرح وضو کیا کرو، پھر قبلہ رو ہو کر تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہو، اس کے بعد قرآن مجید میں سے جو تمہارے لیے آسان ہو وہ پڑھو، پھر رکوع کرو اور جب رکوع کی حالت میں برابر ہو جاؤ تو سر اٹھاؤ۔ جب سیدھے کھڑے ہو جاؤ تو پھر سجدہ میں جاؤ، جب سجدہ پوری طرح کر لو تو سر اٹھاؤ اور اچھی طرح سے بیٹھ جاؤ۔ یہی عمل اپنی ہر رکعت میں کرو۔ اور ابواسامہ راوی نے دوسرے سجدہ کے بعد یوں کہا کہ پھر سر اٹھا یہاں تک کہ سید ھا کھڑا ہو جا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ/حدیث: 6251]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (6250) باب پر واپس اگلی حدیث (6252) →