ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شَرِيكٌ ، كُرَيْبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" بِتُّ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا، فَلَمَّا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَوْ بَعْضُهُ قَعَدَ فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَرَأَ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لأُولِي الأَلْبَابِ سورة آل عمران آية 190.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ مجھے شریک نے خبر دی، انہیں کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے ایک رات میمونہ رضی اللہ عنہا (خالہ) کے گھر گزاری، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اس رات وہیں ٹھہرے ہوئے تھے۔ جب رات کا آخری تہائی حصہ ہوا یا اس کا بعض حصہ رہ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف دیکھا پھر اس آیت کی تلاوت کی «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب» ”بلاشبہ آسمان کی اور زمین کی پیدائش میں اور دن رات کے بدلتے رہنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6215]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة