بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 6211 — باب: تعریض کے طور پر بات کہنے میں جھوٹ سے بچاؤ ہے۔
کتب صحیح بخاری کتاب: اخلاق کے بیان میں باب: تعریض کے طور پر بات کہنے میں جھوٹ سے بچاؤ ہے۔ حدیث 6211

Q6209 حوالہ جات (References)

وَقَالَ إِسْحَاقُ سَمِعْتُ أَنَسًا مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ فَقَالَ كَيْفَ الْغُلَامُ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ هَدَأَ نَفَسُهُ وَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدِ اسْتَرَاحَ وَظَنَّ أَنَّهَا صَادِقَةٌ
اور اسحاق نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ابوطلحہ کے ایک بچے ابوعمیر نامی کا انتقال ہو گیا۔ انہوں نے (اپنی بیوی سے) پوچھا کہ بچہ کیسا ہے؟ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اس کی جان کو سکون ہے اور مجھے امید ہے کہ اب وہ چین سے ہو گا۔ ابوطلحہ اس کلام کا مطلب یہ سمجھے کہ ام سلیم سچی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: Q6209]
حدیث نمبر: 6211 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْحَاقُ ، حَبَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَادٍ يُقَالُ لَهُ: أَنْجَشَةُ، وَكَانَ حَسَنَ الصَّوْتِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ، لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ"، قَالَ قَتَادَةُ: يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَاءِ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو حبان نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک حدی خواں تھے انجشہ نامی ان کی آواز بڑی اچھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا انجشہ! آہستہ چال اختیار کر، ان شیشوں کو مت توڑ۔ قتادہ نے بیان کیا کہ مراد کمزور عورتیں تھیں (کہ سواری سے گر نہ جائیں)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6211]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (6210) باب پر واپس اگلی حدیث (6212) →