وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ:" اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا".
ترجمہ: مولانا داود راز
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شکایت کی کہ میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ پاتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا اور دعا کی «اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا» ”اے اللہ! اسے ثبات فرما، اسے ہدایت کرنے والا اور خود ہدایت پایا ہوا بنا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6090]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة