بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 6090 — باب: مسکرانا اور ہنسنا۔
کتب صحیح بخاری کتاب: اخلاق کے بیان میں باب: مسکرانا اور ہنسنا۔ حدیث 6090

Q6084 حوالہ جات (References)

وَقَالَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام أَسَرَّ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكْتُ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ اللَّهَ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَى
اور فاطمہ علیہا السلام نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چپکے سے مجھ سے ایک بات کہی تو میں ہنس دی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ ہی ہنساتا ہے اور رلاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: Q6084]
حدیث نمبر: 6090 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ:" اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا".
ترجمہ: مولانا داود راز
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شکایت کی کہ میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ پاتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا اور دعا کی «اللهم ثبته واجعله هاديا مهديا» اے اللہ! اسے ثبات فرما، اسے ہدایت کرنے والا اور خود ہدایت پایا ہوا بنا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6090]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (6089) باب پر واپس اگلی حدیث (6091) →