الْحُمَيْدِيُّ ، سُفْيَانُ ، هِشَامٌ ، فَاطِمَةَ بِنْتَ الْمُنْذِرِ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَنَّهُ سَمِعَ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْمُنْذِرِ، تَقُولُ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي أَصَابَتْهَا الْحَصْبَةُ فَامَّرَقَ شَعَرُهَا وَإِنِّي زَوَّجْتُهَا، أَفَأَصِلُ فِيهِ؟ فَقَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے امام حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے فاطمہ بنت منذر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میری لڑکی کو خسرے کا بخار ہو گیا اور اس سے اس کے بال جھڑ گئے۔ میں اس کی شادی بھی کر چکی ہوں تو کیا اس کے مصنوعی بال لگا دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مصنوعی بال لگانے والی اور جس کے لگایا جائے، دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5941]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة