مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ"، قَالُوا: وَمَا الْفَأْلُ، قَالَ:" كَلِمَةٌ طَيِّبَةٌ".
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگنا کوئی چیز نہیں ہے اور بدشگونی نہیں ہے البتہ نیک فال مجھے پسند ہے۔ صحابی نے عرض کیا نیک فال کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اچھی بات منہ سے نکالنا یا کسی سے سن لینا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5776]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة