بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 5772 — باب: امراض میں چھوت لگنے کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
کتب صحیح بخاری کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں باب: امراض میں چھوت لگنے کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ حدیث 5772
حدیث نمبر: 5772 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَحَمْزَةُ ، عبد الله بن عمر
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَحَمْزَةُ، أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، إِنَّمَا الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثٍ: فِي الْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالدَّارِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ اور حمزہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگ جانے کی کوئی حقیقت نہیں ہے، بدشگونی کی کوئی اصل نہیں۔ (اگر ممکن ہوتی تو) نحوست تین چیزوں میں ہوتی، گھوڑے میں، عورت میں اور گھر میں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5772]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (5771) باب پر واپس اگلی حدیث (5773) →