عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، أَبِي سَعِيدٍ:
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ:" أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَخِي يَشْتَكِي بَطْنَهُ، فَقَالَ: اسْقِهِ عَسَلًا، ثُمَّ أَتَى الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: اسْقِهِ عَسَلًا، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ،: فَقَالَ: اسْقِهِ عَسَلًا، ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، فَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ، اسْقِهِ عَسَلًا، فَسَقَاهُ فَبَرَأَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عیاش بن الولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے، کہا ہم سے سعید نے، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوالمتوکل نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرا بھائی پیٹ کی تکلیف میں مبتلا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں شہد پلا پھر دوسری مرتبہ وہی صحابی حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اس مرتبہ بھی شہد پلانے کے لیے کہا وہ پھر تیسری مرتبہ آیا اور عرض کیا کہ (حکم کے مطابق) میں نے عمل کیا (لیکن شفاء نہیں ہوئی)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سچا ہے اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، انہیں پھر شہد پلا۔ چنانچہ انہوں نے شہد پھر پلایا اور اسی سے وہ تندرست ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطِّبِّ/حدیث: 5684]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة