مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، أَبُو عَوَانَةَ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ ، عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبِي الضُّحَى
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَتَى مَرِيضًا أَوْ أُتِيَ بِهِ، قَالَ:" أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا"، قَالَ عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ: وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبِي الضُّحَى، إِذَا أُتِيَ بِالْمَرِيضِ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی مریض کے پاس تشریف لے جاتے یا کوئی مریض آپ کے پاس لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا فرماتے «أذهب الباس رب الناس، اشف وأنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك، شفاء لا يغادر سقما» ”اے پروردگار لوگوں کے! بیماری دور کر دے، اے انسانوں کے پالنے والے! شفاء عطا فرما، تو ہی شفاء دینے والا ہے۔ تیری شفاء کے سوا اور کوئی شفاء نہیں، ایسی شفاء دے جس میں مرض بالکل باقی نہ رہے۔“ اور عمرو بن ابی قیس اور ابراہیم بن طہمان نے منصور سے بیان کیا، انہوں نے ابراہیم اور ابوالضحیٰ سے کہ ”جب کوئی مریض نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لایا جاتا۔“ [صحيح البخاري/كتاب المرضى/حدیث: 5675]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة