بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 5610 — باب: دودھ پینا۔
کتب صحیح بخاری کتاب: مشروبات کے بیان میں باب: دودھ پینا۔ حدیث 5610

Q5603 حوالہ جات (References)

وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {مِنْ بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِلشَّارِبِينَ}.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ النحل میں فرمایا «من بين فرث ودم لبنا خالصا سائغا للشاربين» اللہ تعالیٰ پاک لید اور خون کے درمیان سے خالص دودھ پیدا کرتا ہے جو پینے والوں کو خوب رچتا پچتا (حلق سے آسانی سے اتر جانے والا) ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: Q5603]
حدیث نمبر: 5610 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، هِشَامٌ ، وَسَعِيدٌ ، وَهَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُفِعْتُ إِلَى السِّدْرَةِ فَإِذَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ نَهَرَانِ ظَاهِرَانِ وَنَهَرَانِ بَاطِنَانِ، فَأَمَّا الظَّاهِرَانِ: النِّيلُ وَالْفُرَاتُ، وَأَمَّا الْبَاطِنَانِ فَنَهَرَانِ فِي الْجَنَّةِ، فَأُتِيتُ بِثَلَاثَةِ أَقْدَاحٍ قَدَحٌ فِيهِ لَبَنٌ، وَقَدَحٌ فِيهِ عَسَلٌ، وَقَدَحٌ فِيهِ خَمْرٌ، فَأَخَذْتُ الَّذِي فِيهِ اللَّبَنُ فَشَرِبْتُ، فَقِيلَ لِي: أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ أَنْتَ وَأُمَّتُكَ"، قَالَ هِشَامٌ، وَسَعِيدٌ، وَهَمَّامٌ: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي الْأَنْهَارِ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرُوا، ثَلَاثَةَ أَقْدَاحٍ.
ترجمہ: مولانا داود راز
اور ابراہیم بن طہمان نے کہا کہ ان سے شعبہ نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جب مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا تو وہاں میں نے چار نہریں دیکھیں۔ دو ظاہری نہریں اور دو باطنی۔ ظاہری نہریں تو نیل اور فرات ہیں اور باطنی نہریں جنت کی دو نہریں ہیں۔ پھر میرے پاس تین پیالے لائے گئے ایک پیالے میں دودھ تھا، دوسرے میں شہد تھا اور تیسرے میں شراب تھی۔ میں نے وہ پیالہ لیا جس میں دودھ تھا اور پیا۔ اس پر مجھ سے کہا گیا کہ تم نے اور تمہاری امت نے اصل فطرت کو پا لیا۔ ہشام، سعید اور ہمام نے قتادہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ اس میں ندیوں کا ذکر تو ایسا ہی ہے لیکن تین پیالوں کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5610]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (5609) باب پر واپس اگلی حدیث (5611) →