بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 5598 — باب: «باذق» (انگور کے شیرہ کی ہلکی آنچ میں پکائی ہوئی شراب) کے بارے میں۔
کتب صحیح بخاری کتاب: مشروبات کے بیان میں باب: «باذق» (انگور کے شیرہ کی ہلکی آنچ میں پکائی ہوئی شراب) کے بارے میں۔ حدیث 5598

Q5598 حوالہ جات (References)

وَرَأَى عُمَرُ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ، وَمُعَاذٌ شُرْبَ الطِّلَاءِ عَلَى الثُّلُثِ، وَشَرِبَ الْبَرَاءُ، وَأَبُو جُحَيْفَةَ عَلَى النِّصْفِ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اشْرَبْ الْعَصِيرَ مَا دَامَ طَرِيًّا، وَقَالَ عُمَرُ: وَجَدْتُ مِنْ عُبَيْدِ اللَّهِ رِيحَ شَرَابٍ، وَأَنَا سَائِلٌ عَنْهُ فَإِنْ كَانَ يُسْكِرُ جَلَدْتُهُ
اور اس کے بارے میں جس نے کہا کہ ہر نشہ آور مشروب حرام ہے اور عمر، ابوعبیدہ بن جراح اور معاذ رضی اللہ عنہم کی رائے یہ تھی کہ جب کوئی ایسا شربت (طلا) پک کر ایک مثلث تہائی رہ جائے تو اس کو پینے میں کوئی حرج نہیں ہے اور براء بن عازب اور ابوجحیفہ رضی اللہ عنہما نے (پک کر) آدھا رہ جانے پر بھی پیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ شیرہ جب تک تازہ ہو اسے پی سکتے ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے عبیداللہ (ان کے لڑکے) کے منہ میں ایک مشروب کی بو کے متعلق سنا ہے میں اس سے پوچھوں گا اگر وہ پینے کی چیز نشہ آور ثابت ہوئی تو میں اس پر حد شرعی جاری کروں گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: Q5598]
حدیث نمبر: 5598 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْبَاذَقِ، فَقَالَ: سَبَقَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْبَاذَقَ،" فَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ"، قَالَ: الشَّرَابُ الْحَلَالُ الطَّيِّبُ، قَالَ: لَيْسَ بَعْدَ الْحَلَالِ الطَّيِّبِ، إِلَّا الْحَرَامُ الْخَبِيثُ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں ابوالجویریہ نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «باذق» (انگور کا شیرہ ہلکی آنچ دیا ہوا) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم «باذق» کے وجود سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گئے تھے جو چیز بھی نشہ لائے وہ حرام ہے۔ ابوالجویریہ نے کہا کہ «باذق» تو حلال و طیب ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ انگور حلال و طیب تھا جب اس کی شراب بن گئی تو وہ حرام خبیث ہے (نہ کہ حلال و طیب)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 5598]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (5597) باب پر واپس اگلی حدیث (5599) →