إِسْمَاعِيلُ ، سُلَيْمَانُ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، الْقَاسِمِ ، ابْنَ خَبَّابٍ ، أَبَا سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ: أَنَّ ابْنَ خَبَّابٍ أَخْبَرَهُ أَنَّه سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ يُحَدِّثُ:" أَنَّهُ كَانَ غَائِبًا فَقَدِمَ، فَقُدِّمَ إِلَيْهِ لَحْمٌ، قَالُوا: هَذَا مِنْ لَحْمِ ضَحَايَانَا، فَقَالَ: أَخِّرُوهُ، لَا أَذُوقُهُ، قَالَ: ثُمَّ قُمْتُ فَخَرَجْتُ حَتَّى آتِيَ أَخِي أَبَا قَتَادَةَ، وَكَانَ أَخَاهُ لِأُمِّهِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ بَعْدَكَ أَمْرٌ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے قاسم نے، انہیں ابن خزیمہ نے خبر دی، انہوں نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ وہ سفر میں تھے جب واپس آئے تو ان کے سامنے گوشت لایا گیا۔ کہا گیا کہ یہ ہماری قربانی کا گوشت ہے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اسے ہٹاؤ میں اسے نہیں چکھوں گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر اٹھ گیا اور گھر سے باہر نکل کر اپنے بھائی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا وہ ماں کی طرف سے ان کے بھائی تھے اور بدر کی لڑائی میں شرکت کرنے والوں میں سے تھے۔ میں نے ان سے اس کا ذکر کیا اور انہوں نے کہا کہ تمہارے بعد حکم بدل گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأضاحي/حدیث: 5568]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة