بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 4957 — باب: آیت کی تفسیر ”وہ جس نے قلم کے ساتھ سکھایا“۔
کتب صحیح بخاری کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں باب: آیت کی تفسیر ”وہ جس نے قلم کے ساتھ سکھایا“۔ حدیث 4957
حدیث نمبر: 4957 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، اللَّيْثُ ، عُقَيْلٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَدِيجَةَ، فَقَالَ: زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا اور ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے عروہ سے سنا، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس تشریف لائے اور فرمایا «زملوني زملوني» کہ مجھے چادر اڑھا دو، مجھے چادر اڑھا دو۔ پھر آپ نے سارا واقعہ بیان فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4957]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (4956) باب پر واپس اگلی حدیث (4958) →