أَبُو نُعَيْمٍ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدَ ، عَبْدَ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا سَأَلَ الْأَسْوَدَ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ، أَوْ مُذَّكِرٍ، فَقَالَ:" سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَؤُهَا فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 22، قَالَ: وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا: فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 22 دَالًا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے انہوں نے ایک شخص کو اسود سے پوچھتے سنا کہ سورۃ القمر میں آیت «فهل من مدكر» ہے یا «فهل من مذكر» ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ «فهل من مدكر» پڑھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی «فهل من مدكر» پڑھتے سنا ہے (دال مہملہ سے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4871]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة