بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، مُحَمَّدٌ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، وَمَنْصُورٍ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ سورة ص آية 86، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى قُرَيْشًا اسْتَعْصَوْا عَلَيْهِ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ"، فَأَخَذَتْهُمُ السَّنَةُ حَتَّى حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ وَالْجُلُودَ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: حَتَّى أَكَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ، وَجَعَلَ يَخْرُجُ مِنَ الْأَرْضِ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ، فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ: فَقَالَ: أَيْ مُحَمَّدُ إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَكْشِفَ عَنْهُمْ، فَدَعَا، ثُمَّ قَالَ:" تَعُودُونَ بَعْدَ هَذَا فِي حَدِيثِ مَنْصُورٍ"، ثُمَّ قَرَأَ: فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ إِلَى عَائِدُونَ سورة الدخان آية 10 - 15 أَنَكْشِفُ عَذَابَ الْآخِرَةِ فَقَدْ مَضَى الدُّخَانُ، وَالْبَطْشَةُ، وَاللِّزَامُ، وَقَالَ أَحَدُهُمْ: الْقَمَرُ، وَقَالَ الْآخَرُ: وَالرُّومُ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں سلیمان اور منصور نے، انہیں ابوالضحیٰ نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مبعوث کیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا «قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتكلفين» کہ ”کہہ دو کہ میں تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں اور نہ میں بناوٹی باتیں کرنے والوں میں سے ہوں۔“ پھر جب آپ نے دیکھا کہ قریش عناد سے باز نہیں آتے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے لیے بددعا کی کہ ”اے اللہ! ان کے خلاف میری مدد ایسے قحط سے کر جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔“ (پھر) قحط پڑا اور پر چیز ختم ہو گئی۔ لوگ ہڈیاں اور چمڑے کھانے پر مجبور ہو گئے (سلیمان اور منصور) راویان حدیث میں سے ایک نے بیان کیا کہ وہ چمڑے اور مردار کھانے پر مجبور ہو گئے اور زمین سے دھواں سا نکلنے لگا۔ آخر ابوسفیان آئے اور کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ کی قوم ہلاک ہو چکی، اللہ سے دعا کیجئے کہ ان سے قحط کو دور کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرمائی اور قحط ختم ہو گیا۔ لیکن اس کے بعد وہ پھر کفر کی طرف لوٹ گئے۔ منصور کی روایت میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين» ”تو آپ اس روز کا انتظار کریں جب آسمان کی طرف ایک نظر آنے والا دھواں پیدا ہو۔“ «عائدون» تک۔ کیا آخرت کا عذاب بھی ان سے دور ہو سکے گا؟ ”دھواں“ اور ”سخت پکڑ“ اور ”ہلاکت“ گزر چکے۔ بعض نے ”چاند“ اور بعض نے ”غلبہ روم“ کا بھی ذکر کیا ہے کہ یہ بھی گزر چکا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4824]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة