أَبُو مَعْمَرٍ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بُنِيَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ بِخُبْزٍ وَلَحْمٍ، فَأُرْسِلْتُ عَلَى الطَّعَامِ دَاعِيًا، فَيَجِيءُ قَوْمٌ، فَيَأْكُلُونَ وَيَخْرُجُونَ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ فَيَأْكُلُونَ وَيَخْرُجُونَ، فَدَعَوْتُ حَتَّى مَا أَجِدُ أَحَدًا أَدْعُو، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا أَجِدُ أَحَدًا أَدْعُوهُ، قَالَ:" ارْفَعُوا طَعَامَكُمْ"، وَبَقِيَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْبَيْتِ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، فَقَالَ:" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ"، فَقَالَتْ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، فَتَقَرَّى حُجَرَ نِسَائِهِ كُلِّهِنَّ، يَقُولُ لَهُنَّ كَمَا يَقُولُ لِعَائِشَةَ، وَيَقُلْنَ لَهُ كَمَا، قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا ثَلَاثَةٌ مِنْ رَهْطٍ فِي الْبَيْتِ يَتَحَدَّثُونَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدَ الْحَيَاءِ، فَخَرَجَ مُنْطَلِقًا نَحْوَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، فَمَا أَدْرِي أَخْبَرْتُهُ أَوْ أُخْبِرَ أَنَّ الْقَوْمَ خَرَجُوا، فَرَجَعَ حَتَّى إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي أُسْكُفَّةِ الْبَابِ دَاخِلَةً وَأُخْرَى خَارِجَةً أَرْخَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد (بطور ولیمہ) گوشت اور روٹی تیار کروائی اور مجھے کھانے پر لوگوں کو بلانے کے لیے بھیجا، پھر کچھ لوگ آئے اور کھا کر واپس چلے گئے۔ پھر دوسرے لوگ آئے اور کھا کر واپس چلے، میں بلاتا رہا۔ آخر جب کوئی باقی نہیں رہا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اب تو کوئی باقی نہیں رہا جس کو میں دعوت دوں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اب دستر خوان اٹھا لو لیکن تین اشخاص گھر میں باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر نکل آئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے سامنے جا کر فرمایا السلام علیکم اہل البیت ورحمۃ اللہ۔ انہوں نے کہا وعلیک السلام ورحمۃ اللہ، اپنی اہل کو آپ نے کیسا پایا؟ اللہ برکت عطا فرمائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسی طرح تمام ازواج مطہرات کے حجروں کے سامنے گئے اور جس طرح عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا اس طرح سب سے فرمایا اور انہوں نے بھی عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرح جواب دیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس تشریف لائے تو وہ تین آدمی اب بھی گھر میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت زیادہ حیاء دار تھے، آپ (یہ دیکھ کر کہ لوگ اب بھی بیٹھے ہوئے ہیں) عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کی طرف پھر چلے گئے، مجھے یاد نہیں کہ اس کے بعد میں نے یا کسی اور نے آپ کو جا کر خبر کی کہ اب وہ تینوں آدمی روانہ ہو چکے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اب واپس تشریف لائے اور پاؤں چوکھٹ پر رکھا۔ ابھی آپ کا ایک پاؤں اندر تھا اور ایک پاؤں باہر کہ آپ نے پردہ گرا لیا اور پردہ کی آیت نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4793]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة