قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 شَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالُوا: أَيُّنَا لَمْ يَلْبِسْ إِيمَانَهُ بِظُلْمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَيْسَ بِذَاكَ، أَلَا تَسْمَعُ إِلَى قَوْلِ لُقْمَانَ لِابْنِهِ: إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» کہ ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی آمیزش نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت گھبرائے اور کہنے لگے کہ ہم میں کون ایسا ہو گا جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہیں کی ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ آیت میں ظلم سے یہ مراد نہیں ہے۔ تم نے لقمان علیہ السلام کی وہ نصیحت نہیں سنی جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی تھی «إن الشرك لظلم عظيم» کہ ”بیشک شرک کرنا بڑا بھاری ظلم ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4776]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة