بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 4706 — باب: آیت کی تفسیر ”جنہوں نے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر رکھے ہیں“۔
کتب صحیح بخاری کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں باب: آیت کی تفسیر ”جنہوں نے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر رکھے ہیں“۔ حدیث 4706

Q4705 حوالہ جات (References)

الْمُقْتَسِمِينَ الَّذِينَ حَلَفُوا وَمِنْهُ لَا أُقْسِمُ: أَيْ أُقْسِمُ وَتُقْرَأُ لَأُقْسِمُ، وَ قَاسَمَهُمَا: حَلَفَ لَهُمَا وَلَمْ يَحْلِفَا لَهُ وَقَالَ مُجَاهِدٌ: تَقَاسَمُوا: تَحَالَفُوا.
‏‏‏‏ «المقتسمين‏» سے وہ کافر مراد ہیں جنہوں نے رات کو جا کر قسم کھائی تھی کہ صالح پیغمبر کی اونٹنی کو مار ڈالیں گے۔ اسی سے «لا أقسم‏» نکلا ہے کہ میں قسم کھاتا ہوں۔ بعضوں نے اسے «لأقسم‏.‏» پڑھا ہے ( «لام» تاکید سے) اسی سے ہے۔ «قاسمهما‏» یعنی ابلیس نے آدم و حواء علیہما السلام کے سامنے قسم کھائی لیکن آدم و حواء نے قسم نہیں کھائی تھی۔ مجاہد نے کہا کہ «تقاسموا بالله لنبيتنه» میں «تقاسموا» کا معنی یہ ہے کہ صالح پیغمبر کو رات کو جا کر مار ڈالنے کی انہوں نے قسم کھائی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: Q4705]
حدیث نمبر: 4706 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي ظَبْيَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِينَ سورة الحجر آية 90، قَالَ:" آمَنُوا بِبَعْضٍ، وَكَفَرُوا بِبَعْضٍ، الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى".
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوظبیان حصین بن جندب نے بیان کیا، اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آیت «كما أنزلنا على المقتسمين‏» میں سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں کچھ قرآن انہوں نے مانا کچھ نہ مانا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4706]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (4705) باب پر واپس اگلی حدیث (4707) →