بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 4687 — باب: آیت کی تفسیر ”اور تم نماز قائم کرو، دن کے دونوں سروں پر اور رات کے کچھ حصوں میں، بیشک نیکیاں مٹا دیتی ہیں بدیوں کو، یہ ایک نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کے لیے“۔
کتب صحیح بخاری کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں باب: آیت کی تفسیر ”اور تم نماز قائم کرو، دن کے دونوں سروں پر اور رات کے کچھ حصوں میں، بیشک نیکیاں مٹا دیتی ہیں بدیوں کو، یہ ایک نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کے لیے“۔ حدیث 4687

Q4687 حوالہ جات (References)

وَزُلَفًا: سَاعَاتٍ بَعْدَ سَاعَاتٍ وَمِنْهُ سُمِّيَتِ الْمُزْدَلِفَةُ الزُّلَفُ، مَنْزِلَةٌ بَعْدَ مَنْزِلَةٍ، وَأَمَّا زُلْفَى، فَمَصْدَرٌ مِنَ الْقُرْبَى ازْدَلَفُوا اجْتَمَعُوا، أَزْلَفْنَا: جَمَعْنَا.
‏‏‏‏ «زلفا» یعنی گھڑی گھڑی اسی سے «مزدلفة» ہے۔ کیونکہ لوگ وہاں وقفہ وقفہ سے آتے رہتے ہیں اور «زلف» منزلوں کو بھی کہتے ہیں۔ «زلفى» کا لفظ جو سورۃ ص میں ہے جیسے «قربى» یعنی نزدیکی۔ «ازدلفوا» کا معنی جمع ہو گئے۔ «أزلفنا» متعدی ہے۔ یعنی ہم نے جمع کیا۔ ایک شخص کسی غیر عورت کو ہاتھ سے چھونے یا صرف بوسہ دے دینے کا مرتکب ہو گیا تھا اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: Q4687]
حدیث نمبر: 4687 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُسَدَّدٌ ، يَزِيدُ هُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ ، سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، أَبِي عُثْمَانَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ: وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 قَالَ الرَّجُلُ: أَلِيَ هَذِهِ؟ قَالَ:" لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نے کسی غیر عورت کو بوسہ دے دیا اور پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اپنا گناہ بیان کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وأقم الصلاة طرفى النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين‏» اور تم نماز کی پابندی کرو دن کے دونوں سروں پر اور رات کے کچھ حصوں میں بیشک نیکیاں مٹا دیتی ہیں بدیوں کو، یہ ایک نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کے لیے۔ ان صاحب نے عرض کیا یہ آیت صرف میرے ہی لیے ہے (کہ نیکیاں بدیوں کو مٹا دیتی ہیں)؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے ہر انسان کے لیے ہے جو اس پر عمل کرے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4687]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (4686) باب پر واپس اگلی حدیث (4688) →