بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 4618 — باب: آیت کی تفسیر ”شراب اور جوا اور بت اور پانسے یہ سب گندی چیزیں ہیں بلکہ یہ شیطانی کام ہیں“۔
کتب صحیح بخاری کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں باب: آیت کی تفسیر ”شراب اور جوا اور بت اور پانسے یہ سب گندی چیزیں ہیں بلکہ یہ شیطانی کام ہیں“۔ حدیث 4618

Q4616 حوالہ جات (References)

وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: الْأَزْلَامُ: الْقِدَاحُ، يَقْتَسِمُونَ بِهَا فِي الْأُمُورِ، وَالنُّصُبُ: أَنْصَابٌ يَذْبَحُونَ عَلَيْهَا، وَقَالَ غَيْرُهُ، الزَّلَمُ الْقِدْحُ، لَا رِيشَ لَهُ وَهُوَ وَاحِدُ، الْأَزْلَامِ وَالِاسْتِقْسَامُ، أَنْ يُجِيلَ الْقِدَاحَ فَإِنْ نَهَتْهُ انْتَهَى، وَإِنْ أَمَرَتْهُ فَعَلَ مَا تَأْمُرُهُ بِهِ، يُجِيلُ يُدِيرُ، وَقَدْ أَعْلَمُوا الْقِدَاحَ أَعْلَامًا بِضُرُوبٍ يَسْتَقْسِمُونَ بِهَا، وَفَعَلْتُ مِنْهُ قَسَمْتُ وَالْقُسُومُ الْمَصْدَرُ.
‏‏‏‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ «الأزلام» سے مراد وہ تیر ہیں جن سے وہ اپنے کاموں میں فال نکالتے تھے۔ کافر ان سے اپنی قسمت کا حال دریافت کیا کرتے تھے۔ «نصب» (بیت اللہ کے چاروں طرف بت 360 کی تعداد میں کھڑے کئے ہوئے تھے جن پر وہ قربانی کیا کرتے تھے۔) دوسرے لوگوں نے کہا ہے کہ لفظ «زلم» وہ تیر جن کے پر نہیں ہوا کرتے، «الأزلام» کا واحد ہے۔ «استقسام» یعنی پانسا پھینکنا کہ اس میں نہیں آ جائے تو رک جائیں اور اگر حکم آ جائے تو حکم کے مطابق عمل کریں۔ تیروں پر انہوں نے مختلف قسم کے نشانات بنا رکھے تھے اور ان سے قسمت کا حال نکالا کرتے تھے۔ «استقسام» سے (لازم) «فعلت» کے وزن پر «قسمت» ہے اور «لقسوم»، «مصدر» ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: Q4616]
حدیث نمبر: 4618 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرٍو ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" صَبَّحَ أُنَاسٌ غَدَاةَ أُحُدٍ الْخَمْرَ، فَقُتِلُوا مِنْ يَوْمِهِمْ جَمِيعًا شُهَدَاءَ، وَذَلِكَ قَبْلَ تَحْرِيمِهَا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی، انہیں عمرو نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ احد میں بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے صبح صبح شراب پی تھی اور اسی دن وہ سب شہید کر دیئے گئے تھے۔ اس وقت شراب حرام نہیں ہوئی تھی (اس لیے وہ گنہگار نہیں ٹھہرے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4618]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (4617) باب پر واپس اگلی حدیث (4619) →