بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 4608 — باب: آیت کی تفسیر ”پھر اگر تم کو پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو“۔
کتب صحیح بخاری کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں باب: آیت کی تفسیر ”پھر اگر تم کو پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو“۔ حدیث 4608

Q4607 حوالہ جات (References)

تَيَمَّمُوا تَعَمَّدُوا آمِّينَ عَامِدِينَ أَمَّمْتُ وَتَيَمَّمْتُ وَاحِدٌ. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمَسْتُمْ وَتَمَسُّوهُنَّ وَاللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ وَالْإِفْضَاءُ النِّكَاحُ.
‏‏‏‏ «تيمموا» یعنی «تعمدوا» اسی لیے آتا ہے یعنی قصد کرو۔ «آمين» یعنی «عامدين» قصد کرنے والے۔ «أممت» ‏‏‏‏ اور «وتيممت» ‏‏‏‏ ایک ہی معنی میں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ «‏‏‏‏لمستم وتمسوهن واللاتي دخلتم بهن» ‏‏‏‏ اور «الإفضاء» سب کے معنی عورت سے ہمبستری کرنے کے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: Q4607]
حدیث نمبر: 4608 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:" سَقَطَتْ قِلَادَةٌ لِي بِالْبَيْدَاءِ، وَنَحْنُ دَاخِلُونَ الْمَدِينَةَ، فَأَنَاخَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَزَلَ، فَثَنَى رَأْسَهُ فِي حَجْرِي رَاقِدًا، أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ، فَلَكَزَنِي لَكْزَةً شَدِيدَةً، وَقَالَ: حَبَسْتِ النَّاسَ فِي قِلَادَةٍ، فَبِي الْمَوْتُ لِمَكَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَوْجَعَنِي، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ، وَحَضَرَتِ الصُّبْحُ، فَالْتُمِسَ الْمَاءُ فَلَمْ يُوجَدْ، فَنَزَلَتْ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ سورة المائدة آية 6 الْآيَةَ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: لَقَدْ بَارَكَ اللَّهُ لِلنَّاسِ فِيكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ، مَا أَنْتُمْ إِلَّا بَرَكَةٌ لَهُمْ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد قاسم نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ میرا ہار مقام بیداء میں گم ہو گیا تھا۔ ہم مدینہ واپس آ رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہیں اپنی سواری روک دی اور اتر گئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سر مبارک میری گود میں رکھ کر سو رہے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر آ گئے اور میرے سینے پر زور سے ہاتھ مار کر فرمایا کہ ایک ہار کے لیے تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو روک لیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آرام کے خیال سے میں بےحس و حرکت بیٹھی رہی حالانکہ مجھے تکلیف ہوئی تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیدار ہوئے اور صبح کا وقت ہوا اور پانی کی تلاش ہوئی لیکن کہیں پانی کا نام و نشان نہ تھا۔ اسی وقت یہ آیت اتری «يا أيها الذين آمنوا إذا قمتم إلى الصلاة‏» الخ۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے آل ابی بکر! تمہیں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے باعث برکت بنایا ہے۔ یقیناً تم لوگوں کے لیے باعث برکت ہو۔ تمہارا ہار گم ہوا اللہ نے اس کی وجہ سے تیمم کی آیت نازل فرما دی جو قیامت تک مسلمانوں کے لیے آسانی اور برکت ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4608]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (4607) باب پر واپس اگلی حدیث (4609) →