مُسَدَّدٌ ، خَالِدٌ ، بَيَانٌ ، قَيْسٍ ، جَرِيرٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا بَيَانٌ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: كَانَ بَيْتٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، يُقَالُ لَهُ: ذُو الْخَلَصَةِ، وَالْكَعْبَةُ الْيَمانِيَةُ، وَالْكَعْبَةُ الشَّأْمِيَّةُ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ"، فَنَفَرْتُ فِي مِائَةٍ وَخَمْسِينَ رَاكِبًا فَكَسَرْنَاهُ، وَقَتَلْنَا مَنْ وَجَدْنَا عِنْدَهُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَدَعَا لَنَا وَلِأَحْمَسَ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے بیان کیا، ان سے بیان بن بشر نے بیان کیا، ان سے قیس نے اور ان سے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ذوالخلصہ سے مجھے کیوں نہیں بےفکری دلاتے! میں نے عرض کیا میں حکم کی تعمیل کروں گا۔ چنانچہ قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کو ساتھ لے کر میں روانہ ہوا۔ یہ سب اچھے سوار تھے، لیکن میں سواری اچھی طرح نہیں کر پاتا تھا۔ میں نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا جس کا اثر میں نے اپنے سینہ میں دیکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرمائی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4355]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة