إِسْحَاقُ ، خَالِدٌ ، الشَّيْبَانِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، جَرِيرٌ ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ ، الشَّيْبَانِيِّ ، أَبِي بُرْدَةَ
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ فَسَأَلَهُ عَنْ أَشْرِبَةٍ تُصْنَعُ بِهَا، فَقَالَ: وَمَا هِيَ؟ قَالَ:" الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ"، فَقُلْتُ لِأَبِي بُرْدَةَ: مَا الْبِتْعُ؟ قَالَ: نَبِيذُ الْعَسَلِ، وَالْمِزْرُ نَبِيذُ الشَّعِيرِ، فَقَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ". رَوَاهُ جَرِيرٌ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ.
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے، ان سے شیبانی نے، ان سے سعید بن ابی بردہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان شربتوں کا مسئلہ پوچھا جو یمن میں بنائے جاتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ وہ کیا ہیں؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ”بتع“ اور ”مزر“ (سعید بن ابی بردہ نے کہا کہ) میں نے ابوبردہ (اپنے والد) سے پوچھا ”بتع“ کیا چیز ہے؟ انہوں نے بتایا کہ شہد سے تیاری کی ہوئی شراب اور ”مزر“ جَو سے تیار کی ہوئی شراب۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب میں فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز پینا حرام ہے۔ اس کی روایت جریر اور عبدالواحد نے شیبانی سے کی ہے اور انہوں نے ابوبردہ سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4343]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة