بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 4331 — باب:غزوہ طائف کا بیان جو شوال سنہ ۸ ھ میں ہوا۔
کتب صحیح بخاری کتاب: غزوات کے بیان میں باب:غزوہ طائف کا بیان جو شوال سنہ ۸ ھ میں ہوا۔ حدیث 4331

Q4324 حوالہ جات (References)

قَالَهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ
‏‏‏‏ یہ موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: Q4324]
حدیث نمبر: 4331 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، هِشَامٌ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ نَاسٌ مِنْ الْأَنْصَارِ حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَفَاءَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ، فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رِجَالًا الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، قَالَ أَنَسٌ: فَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِهِمْ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، وَلَمْ يَدْعُ مَعَهُمْ غَيْرَهُمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟" فَقَالَ فُقَهَاءُ الْأَنْصَارِ: أَمَّا رُؤَسَاؤُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا، وَأَمَّا نَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثِي عَهْدٍ بِكُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَذْهَبُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رِحَالِكُمْ، فَوَاللَّهِ لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ رَضِينَا، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَتَجِدُونَ أُثْرَةً شَدِيدَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ"، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمْ يَصْبِرُوا.
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی، بیان کیا کہ جب قبیلہ ہوازن کے مال میں سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو دینا تھا وہ دیا تو انصار کے کچھ لوگوں کو رنج ہوا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو سو سو اونٹ دے دئیے تھے۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اللہ اپنے رسول کی مغفرت کرے، قریش کو تو آپ عنایت فرما رہے ہیں اور ہم کو آپ نے چھوڑ دیا ہے حالانکہ ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصار کی یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کانوں میں آئی تو آپ نے انہیں بلا بھیجا اور چمڑے کے ایک خیمے میں انہیں جمع کیا، ان کے ساتھ ان کے علاوہ کسی کو بھی آپ نے نہیں بلایا تھا۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا تمہاری جو بات مجھے معلوم ہوئی ہے کیا وہ صحیح ہے؟ انصار کے جو سمجھدار لوگ تھے انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جو لوگ ہمارے معزز اور سردار ہیں، انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ البتہ ہمارے کچھ لوگ جو ابھی نوعمر ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ اللہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مغفرت کرے، قریش کو آپ دے رہے ہیں اور ہمیں آپ نے چھوڑ دیا ہے حالانکہ ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ میں ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جو ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہیں، اس طرح میں ان کی دلجوئی کرتا ہوں۔ کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ تو مال و دولت لے جائیں اور تم نبی کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے جاؤ۔ اللہ کی قسم! جو چیز تم اپنے ساتھ لے جاؤ گے وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لے جا رہے ہیں۔ انصار نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اس پر راضی ہیں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد تم دیکھو گے کہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس وقت صبر کرنا، یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے آ ملو۔ میں حوض کوثر پر ملوں گا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا لیکن انصار نے صبر نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4331]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (4330) باب پر واپس اگلی حدیث (4332) →