بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 4145 — باب: واقعہ افک کا بیان۔
کتب صحیح بخاری کتاب: غزوات کے بیان میں باب: واقعہ افک کا بیان۔ حدیث 4145

Q4141 حوالہ جات (References)

وَالْأَفَكِ بِمَنْزِلَةِ النِّجْسِ , وَالنَّجَسِ يُقَالُ: إِفْكُهُمْ وَأَفْكُهُمْ فَمَنْ قَالَ: أَفَكَهُمْ , يَقُولُ: صَرَفَهُمْ عَنِ الْإِيمَانِ وَكَذَّبَهُمْ , كَمَا قَالَ: يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ يُصْرَفُ عَنْهُ مَنْ صُرِفَ.
‏‏‏‏ لفظ «الإفك» «نجس» اور «النجس» کی طرح ہے۔ بولتے ہیں «إفكهم» (سورۃ الاحقاف میں) آیا ہے۔ «وذلك إفكهم» وہ بکسر ہمزہ ہے اور یہ بفتح ہمزہ و سکون فاء اور «إفكهم» یہ بفتحہ ہمزہ وفاء بھی ہے اور کاف کو بھی فتحہ پڑھا ہے تو ترجمہ یوں ہو گا اس نے ان کو ایمان سے پھیر دیا اور جھوٹا بنایا جیسے سورۃ والذاریات میں «يؤفك عنه من أفك» ہے یعنی قرآن سے وہی منحرف ہوتا ہے جو اللہ کے علم میں منحرف قرار پا چکا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: Q4141]
حدیث نمبر: 4145 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدَةُ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ ، عُثْمَانُ بْنُ فَرْقَدٍ ، هِشَامًا ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ , فَقَالَتْ: لَا تَسُبَّهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَتْ عَائِشَةُ: اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ , قَالَ:" كَيْفَ بِنَسَبِي؟" قَالَ: لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنَ الْعَجِينِ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ فَرْقَدٍ , سَمِعْتُ هِشَامًا , عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَبَبْتُ حَسَّانَ وَكَانَ مِمَّنْ كَثَّرَ عَلَيْهَا.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو برا کہنے لگا تو انہوں نے کہا کہ انہیں برا نہ کہو ‘ کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے کفار کو جواب دیتے تھے اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مشرکین قریش کی ہجو کہنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میرے نسب کا کیا ہو گا؟ حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ کو ان سے اس طرح الگ کر لوں گا جیسے بال گندھے ہوئے آٹے سے کھینچ لیا جاتا ہے۔ اور محمد بن عقبہ (امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ) نے بیان کیا ‘ ہم سے عثمان بن فرقد نے بیان کیا ‘ کہا میں نے ہشام سے سنا ‘ انہوں نے اپنے والد سے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا کیونکہ انہوں نے بھی عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے میں بہت حصہ لیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4145]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (4144) باب پر واپس اگلی حدیث (4146) →