بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 4142 — باب: واقعہ افک کا بیان۔
کتب صحیح بخاری کتاب: غزوات کے بیان میں باب: واقعہ افک کا بیان۔ حدیث 4142

Q4141 حوالہ جات (References)

وَالْأَفَكِ بِمَنْزِلَةِ النِّجْسِ , وَالنَّجَسِ يُقَالُ: إِفْكُهُمْ وَأَفْكُهُمْ فَمَنْ قَالَ: أَفَكَهُمْ , يَقُولُ: صَرَفَهُمْ عَنِ الْإِيمَانِ وَكَذَّبَهُمْ , كَمَا قَالَ: يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ يُصْرَفُ عَنْهُ مَنْ صُرِفَ.
‏‏‏‏ لفظ «الإفك» «نجس» اور «النجس» کی طرح ہے۔ بولتے ہیں «إفكهم» (سورۃ الاحقاف میں) آیا ہے۔ «وذلك إفكهم» وہ بکسر ہمزہ ہے اور یہ بفتح ہمزہ و سکون فاء اور «إفكهم» یہ بفتحہ ہمزہ وفاء بھی ہے اور کاف کو بھی فتحہ پڑھا ہے تو ترجمہ یوں ہو گا اس نے ان کو ایمان سے پھیر دیا اور جھوٹا بنایا جیسے سورۃ والذاریات میں «يؤفك عنه من أفك» ہے یعنی قرآن سے وہی منحرف ہوتا ہے جو اللہ کے علم میں منحرف قرار پا چکا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: Q4141]
حدیث نمبر: 4142 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّ هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ , مِنْ حِفْظِهِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , قَالَ: قَالَ لِي الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبَلَغَكَ , أَنَّ عَلِيًّا كَانَ فِيمَنْ قَذَفَ عَائِشَةَ , قُلْتُ: لَا , وَلَكِنْ قَدْ أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ مِنْ قَوْمِكَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ لَهُمَا:" كَانَ عَلِيٌّ مُسَلِّمًا فِي شَأْنِهَا فَرَاجَعُوهُ فَلَمْ يَرْجِعْ , وَقَالَ مُسَلِّمًا بِلَا شَكٍّ فِيهِ وَعَلَيْهِ كَانَ فِي أَصْلِ الْعَتِيقِ كَذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہشام بن یوسف نے اپنی یاد سے مجھے حدیث لکھوائی۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں معمر نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے خلیفہ ولید بن عبدالملک نے پوچھا ‘ کیا تم کو معلوم ہے کہ علی رضی اللہ عنہ بھی عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والوں میں تھے؟ میں نے کہا کہ نہیں ‘ البتہ تمہاری قوم (قریش) کے دو آدمیوں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے مجھے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ ان کے معاملے میں خاموش تھے۔ پھر لوگوں نے ہشام بن یوسف (یا زہری) سے دوبارہ پوچھا۔ انہوں نے یہی کہا «مسلما» اس میں شک نہ کیا «مسيئا» کا لفظ نہیں کہا اور «عليه» کا لفظ زیاوہ کیا (یعنی زہری نے ولید کو اور کچھ جواب نہیں دیا اور پرانے نسخہ میں «مسلما» کا لفظ تھا)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4142]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (4141) باب پر واپس اگلی حدیث (4143) →