حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجَّالَةِ يَوْمَ أُحُدٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ، وَأَقْبَلُوا مُنْهَزِمِينَ، فَذَاكَ إِذْ يَدْعُوهُمُ الرَّسُولُ فِي أُخْرَاهُمْ.
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (تیر اندازوں کے) پیدل دستہ کا امیر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہما کو بنایا تھا لیکن وہ لوگ شکست خوردہ ہو کر آئے۔ (آیت «يدعوهم الرسول في أخراهم.» ان ہی کے بارے میں نازل ہوئی تھی) اور یہ ہزیمت اس وقت پیش آئی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کو پیچھے سے پکار رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4067]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة