إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا إِلَى أَبِي رَافِعٍ , فَدَخَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَتِيكٍ بَيْتَهُ لَيْلًا وَهُوَ نَائِمٌ فَقَتَلَهُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی زائدہ نے، انہوں نے اپنے والد زکریا بن ابی زائدہ سے، ان سے ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چند آدمیوں کو ابورافع کے پاس بھیجا (منجملہ ان کے) عبداللہ بن عتیک رات کو اس گھر میں گھسے، وہ سو رہا تھا۔ اسے قتل کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4038]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة