بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 4036 — باب: بنو نضیر کے یہودیوں کے واقعہ کا بیان۔
کتب صحیح بخاری کتاب: غزوات کے بیان میں باب: بنو نضیر کے یہودیوں کے واقعہ کا بیان۔ حدیث 4036

Q4028 حوالہ جات (References)

وَمَخْرَجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فِي دِيَةِ الرَّجُلَيْنِ , وَمَا أَرَادُوا مِنَ الْغَدْرِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: عَنْ عُرْوَةَ: كَانَتْ عَلَى رَأْسِ سِتَّةِ أَشْهُرٍ مِنْ وَقْعَةِ بَدْرٍ قَبْلَ وقعة أُحُدٍ , وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ دِيَارِهِمْ لأَوَّلِ الْحَشْرِ إلى قوله أَنْ يَخْرُجُوا سورة الحشر آية 2 وَجَعَلَهُ ابْنُ إِسْحَاقَ بَعْدَ بِئْرِ مَعُونَةَ وَأُحُدٍ.
‏‏‏‏ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دو مسلمانوں کی دیت کے سلسلے میں ان کے پاس جانا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ان کا دغا بازی کرنا۔ زہری نے عروہ سے بیان کیا کہ غزوہ بنو نضیر، غزوہ بدر کے چھ مہینے بعد اور غزوہ احد سے پہلے ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد «هو الذي أخرج الذين كفروا من أهل الكتاب من ديارهم لأول الحشر ما ظننتم أن يخرجوا» اللہ ہی وہ ہے جس نے نکالا ان لوگوں کو جو کافر ہوئے اہل کتاب سے ان کے گھروں سے اور یہ (جزیرہ عرب سے) ان کی پہلی جلا وطنی ہے ابن اسحاق کی تحقیق میں یہ غزوہ غزوہ بئرمعونہ اور غزوہ احد کے بعد ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: Q4028]
حدیث نمبر: 4036 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو بَكْرٍ
فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا نُورَثُ , مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ , إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْمَالِ" , وَاللَّهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي.
ترجمہ: مولانا داود راز
اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارا ترکہ تقسیم نہیں ہوتا۔ جو کچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔ البتہ آل محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کو اس جائیداد میں سے خرچ ضرور ملتا رہے گا۔ اور اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قرابت داروں کے ساتھ عمدہ معاملہ کرنا مجھے خود اپنے قرابت داروں کے ساتھ حسن معاملت سے زیادہ عزیز ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4036]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (4035) باب پر واپس اگلی حدیث (4037) →