عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، مُعْتَمِرٌ ، أَبِيهِ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخَلَاتِ حَتَّى افْتَتَحَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرَ , فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ انصاری صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے کچھ کھجور کے درخت مخصوص رکھتے تھے (تاکہ اس کا پھل آپ کی خدمت میں بھیج دیا جائے) لیکن جب اللہ تعالیٰ نے بنو قریظہ اور بنو نضیر پر فتح عطا فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پھل واپس فرما دیا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4030]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة