عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ يَوْمُ بُعَاثٍ يَوْمًا قَدَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ، وَقُتِلَتْ سَرَاتُهُمْ فِي دُخُولِهِمْ فِي الْإِسْلَامِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بعاث کی لڑائی کو (انصار کے قبائل اوس و خزرج کے درمیان) اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مدینہ میں آنے سے پہلے ہی برپا کرا دیا تھا چنانچہ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو انصار میں پھوٹ پڑی ہوئی تھی اور ان کے سردار قتل ہو چکے تھے۔ اس میں اللہ کی یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ انصار اسلام قبول کر لیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3930]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة