بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 3901 — باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔
کتب صحیح بخاری کتاب: انصار کے مناقب باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا۔ حدیث 3901

Q3897 حوالہ جات (References)

وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ , وَأَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ". وَقَالَ أَبُو مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ فَذَهَبَ وَهَلِي إِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرُ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ".
عبداللہ بن زید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کیا کہ اگر ہجرت کی فضیلت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک آدمی بن کر رہنا پسند کرتا اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ میں نے خواب دیکھا کہ میں مکہ سے ایک ایسی زمین کی طرف ہجرت کر کے جا رہا ہوں کہ جہاں کھجور کے باغات بکثرت ہیں۔ میرا ذہن اس سے یمامہ یا ہجر کی طرف گیا لیکن یہ سر زمین شہر یثرب کی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: Q3897]
حدیث نمبر: 3901 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٌ ، أَبِي ، عَائِشَةَ ، أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنِي زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ هِشَامٌ: فَأَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , أَنَّ سَعْدًا، قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أُجَاهِدَهُمْ فِيكَ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْرَجُوهُ , اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّكَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ"،وَقَالَ أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ:" مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا نَبِيَّكَ وَأَخْرَجُوهُ مِنْ قُرَيْشٍ".
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہشام نے بیان کیا کہ انہیں ان کے والد نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ اس سے زیادہ مجھے اور کوئی چیز پسندیدہ نہیں کہ تیرے راستے میں، میں اس قوم سے جہاد کروں جس نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تکذیب کی اور انہیں (ان کے وطن مکہ سے) نکالا۔ اے اللہ! لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان لڑائی کا سلسلہ ختم کر دیا ہے۔ اور ابان بن یزید نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ (یہ الفاظ سعد رضی اللہ عنہ فرماتے تھے) «من قوم كذبوا نبيك وأخرجوه من قريش‏.» یعنی جنہوں نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جھٹلایا، باہر نکال دیا۔ اس سے قریش کے کافر مراد ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/حدیث: 3901]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (3900) باب پر واپس اگلی حدیث (3902) →